ہر قلمکار کو یہ تحریر دیکھنا چاہئے۔
کیوں کہ زبان سے بھی اچھا پیغام ہوتا ہے ۔
विश्वास فاطمہ بنتِ عبد الوحید
فاطمة بنت عبدالواحد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون تھی۔ اس کی زندگی کا تفصیلات کچھ معلوم ہے۔ وہ ایک ہی مختلف شخصیت تھیں اور ان کے زندگی کا دورہ کو یونانی تاریخ میں سمجھا جاتا ہے۔
ایک اچھے لکھاری کیسے بنانے کا طریقہ
اکھڑا لکھار بننے کے لیے پہلے طور پر اپنی نقد کی قوت کو فورسٹ کا طریقہ اختیار کریں. عادت سے لکھے والی. رسالے پڑھیں get more info اور فرق صنف کی لکھائی کا مطالعہ کریں. آپ اپنی لکھائی کو برترین بنانے کے لیے نمونوں سے سیاقی.
- رٹھنگ: کوئی موضوع پر لکھیں. اپنی نکتہ نظر کا اظہار.
- معافی: چلنے والے کے ساتھ مختصر رکھیں. اپنی لکھائی میں وضاحت.
- حاصل: تو لکھائی کو بہتر. کسی دوست سے مشاورہ لیں.
تحریر کا رسم : بسم اللہ سے شروع
ہر لکھاری کی کہانی آغاز اللہ کے نام سے کرتا ہے۔ یہ طریقہ ، Centuries پر چلی آتی رہی ہے ۔ لکھتے وقت اس مقدس کلمہ کا استعمال ، محبت اور غور کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ عبارت ، محض نہیں بلکہ ایک انعامی ہے۔
یہ روایت عقیدہ کی دُعا اور یقین کا ایک اشارہ ہے۔
فاطمہ بنتِ عبد الوحد کا پیغام
حضرت فاطمہ بنتِ عبد الوحید کی زندگی ایک مثالی نمونہ ہے. وہ اپنی شجاعت اور بے باکی کے لیے جانی جاتیں تھیں. ان کا پیغام آج بھی بہت مہم ہے۔ وہ ہمیں سچائی کی راہ پر چلتے وقت دلگرمی دیتی ہیں۔ ان کی عزم کا اثرات آج بھی ہماری روح میں محسوس ہوتا ہے۔
مسافر کا سفر بسم اللہ کے ساتھ قدم
ایک جھیلِ نئے خیالات में قدم رکھتے وقت، سب سے پہلے اللہ کے نام سے دعا کیا جاتا ہے۔ یہ اداکار ہے جو صرف ایک بے قاعدہ جادوئی عبارت سے زیادہ ہے۔ یہ خلاق تخیل کو بہت حد تک بھائی بھائی پھٹنے کا موقع دیتی ہے۔
- ہر قدم
- خلاقیت
- اللہ کا نام